بے ادبی کے ڈر سے
Poet: hira By: hira, gojraبے ادبی کے ڈر سے کبھی میں بول نہ سکا
اور مل نہ سکی کبھی میری محبت مجھے
وہ سمجھ کر بھی انجان بن گیا
کبھی راس نہ آسکی اتنی شرافت مجھے
رنگ اس کا مجھ پہ چڑھ گیا ہے
زمانے میں بدنام کر گئی صحبت مجھے
لوگ مسکان لیے بڑھتے رہے میری طرف
مگر نہیں رہی کسی اور کی ضرورت مجھے
تا عمر دھوکے ملتے رہے اپنوں سے
آخر لے ہی ڈوبی میری حماقت مجھے
کانٹوں کو دیکھتے ہی آنسو نکل پڑے
نجانے کس موڑ پہ لے آئی یہ نزاکت مجھے
جتنا میں نے اسے چاہا ‘اگر خدا کو چاہتا
مل ہی جاتی کوئی شائد کوئی چوکھٹ مجھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






