آزماتے ہیں

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرت, Quetta

یہ ٹوٹ ٹوٹ کے کیوں لوگ اُدھر کو جاتے ہیں
ہمارے ضبط کی حد کو جو آزماتے ہیں

اب ان کا عِطر فروشوں میں نام آتا ہے
مہک جو بیچتے ہیں، ہانک بھی لگاتے ہیں

وہ جن کے واسطے میں سب سے لا تعلق ہوں
وہی عدو سے مرے ہاتھ جا ملاتے ہیں

بہت ہی دیر میں ہم پر یہ بھید کھلتا ہے
کہ گوشت پوست کو ہم کیا خدا بناتے ہیں

جو اپنے آپ کو اوروں کی نذر کر ڈالے
اب ایسے لوگ تو بس گنتیوں میں آتے ہیں

زوال میں تو مجھے دیکھنا گوارا نہ تھا
عروج میں وہ بھلا کیسے حق جتاتے ہیں

وہی چلے ہمیں کرنے کو آج دریا بُرد
رشیدؔ! جن کے لیئے کشتیاں بناتے ہیں

Rate it:
Views: 4
06 May, 2026
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL