آنکھیں تکھن سے چُور، کہ مسلسل سفر میں ہوں ہے چین کُوسوں دور، کہ مسلسل سفر میں ہوں احباب بھی کہنے لگے ہیں اب تو مجھ سے یہ ہے چہرے پہ تیرے مسطور، کہ مسلسل سفر میں ہوں