آواز دو مجھے
Poet: ShaheenMughal By: ShaheenMughal, gjn آواز دو مجھے
یاس کی گہرائیوں میں ھوں
صبر کی کٹھنائیوں میں ھوں
آواز دو مجھے
سرد رویوں کی زد میں ھوں
جب سے تیری محبت کی حد
میں ھوں
آواز دو مجھے
نکل آؤں بد گمانی کی بھول
بھلیوں سے
میٰں بھی گزروں محبت کی
گلیوں سے
آواز دو مجھے
وفا کے شجر کو آگ سی لگی ھے
میرے اشکوں سے نہ ابھی تک
جو بجھی ھے
آواز دو مجھے
میری روح بھی ھو گئی ھے
کرچی کرچی
میری ذات بھی تو ھے
بکھری بکھری
آواز دو مجھے
دشت کے ریزوں میں ھو گئی
گم ھوں
ڈھونڈ لو! کہ اب میں
میں نہیں تم ھوں
آواز دو مجھے
مان لو ! تمہارے لئے میری سچی چاھت ھے
تجھ سے وابستہ میری ھر خوشی
و راحت ھے
آواز دو مجھے
اپنی بے دردیوں سے بچا لو مجھ کو
بکھر رہی ھوں تنکہ تنکہ شاھین
سنبھا لو مجھ کو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






