اب کیا تو ہوگی‘ انتہا‘ ہو چکی انسانیت کی

Poet: Muhammad Ali Surahio {aajiz} By: Muhammad Ali Surahio, Tando Muhammad Khan

جس کے آتے ہی چلی جائے غیرت اے زندگی
ہمیں ایسی بھی نہیں چاہیے شہرت اے زندگی

بنی فساد کی ہے باعث یہی تو اکثر‘ اس لئے
ہو گئی دنیا کی دولت سے کراہت اے زندگی

آخر ہے کام کس کا پینا خون آدمی کا؟
آج ہوتی ہے سوچ کر یہی حیرت اے زندگی!

اب کیا تو ہوگی‘ انتہا‘ ہوچکی انسانیت کی
دیکھ بڑھ رہی ہے کیسے جہالت اے زندگی

عوام خود ہی سبب ہے ہر ایک ظلم و ستم کا
عبث حکم کو دے رہی ہے ملامت اے زندگی

تیزی رفتار ظلمت میں آگئی اس قدر ہے‘ کہ
ہو گئی پہلے قیامت سے‘ قیامت اے زندگی

دیکھا عزت کا تماشا جو‘ سوچ آئی ہمیں یہ
اس دور سے کی جائے بغاوت اے زندگی

کھول دے آنکھیں کر دے بیدار بھی جو‘ اب
دکھا دے ایسی کرامت کوئی‘ قدرت اے زندگی

Rate it:
Views: 474
14 Jan, 2011