ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا
Poet: مظفر رزمی By: نعمان, Lahoreابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا
مری بستی میں ہنگاموں کا اندازہ نہیں ہوتا
جدھر محسوس ہو خوشبو اسی جانب بڑھے جاؤ
اندھیری رات میں رستوں کا اندازہ نہیں ہوتا
جو صدیوں کی کسک لے کر گزر جاتے ہیں دنیا سے
مورخ کو بھی ان لمحوں کا اندازہ نہیں ہوتا
یہ رہبر ہیں کہ رہزن ہیں مسیحا ہیں کہ قاتل ہیں
ہمیں اپنے نمائندوں کا اندازہ نہیں ہوتا
نظر ہو لاکھ گہری اور بصیرت آشنا پھر بھی
نقابوں میں کبھی چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا
زمیں پر آؤ پھر دیکھو ہماری اہمیت کیا ہے
بلندی سے کبھی ذروں کا اندازہ نہیں ہوتا
وفاؤں کے تسلسل سے بھی اکثر ٹوٹ جاتے ہیں
محبت کے حسیں رشتوں کا اندازہ نہیں ہوتا
اتر جاتے ہیں روح و دل میں کتنی وسعتیں لے کر
غزل کے دل ربا لہجوں کا اندازہ نہیں ہوتا
سلیقے سے سجانا آئینوں کو ورنہ اے رزمیؔ
غلط رخ ہو تو پھر چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






