شام غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے

Poet: مظفر رزمی By: رزمی, Quetta

شام غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے
میں نے دانستہ چراغوں کو بجھا رکھا ہے

اور کیا دوں میں گلستاں سے محبت کا ثبوت
میں نے کانٹوں کو بھی پلکوں پہ سجا رکھا ہے

جانے کیوں برق کو اس سمت توجہ ہی نہیں
میں نے ہر طرح نشیمن کو سجا رکھا ہے

زندگی سانسوں کا تپتا ہوا صحرا ہی سہی
میں نے اس ریت پہ اک قصر بنا رکھا ہے

وہ مرے سامنے دلہن کی طرح بیٹھے ہیں
خواب اچھا ہے مگر خواب میں کیا رکھا ہے

خود سناتا ہے انہیں میری محبت کے خطوط
پھر بھی قاصد نے مرا نام چھپا رکھا ہے

کچھ نہ کچھ تلخئ حالات ہے شامل رزمیؔ
تم نے پھولوں سے بھی دامن جو بچا رکھا ہے

Rate it:
Views: 1078
08 Apr, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL