ابھی کچھ کام کرنے ہیں

Poet: By: Rimsha , Warmingham

ابھی کچھ کام کرنے ہیں "
ابھی رونا ہے
ضبط غم کا دریا پار کرنا ہے
ابھی تو ذہن کو
تیری جدائی کےلئےتیارکرنا ہے
ابھی تو آخری لمحوں میں تم کو پیار کرنا ہے
ابھی تو قریہ قریہ
ہم کو تیرے پیار میں بدنام ہونا ہے
ابھی یہ کام ہونا ہے
لب ساحل کھڑے ہو کر
زبان خامشی میں جانے کتنی باتیں کرنی ہیں
تمہارے نام ساری راتیں کرنی ہیں
وہ جتنے دن مرے جیون کے باقی ہیں
تمہارے نام کرنے ہیں
ابھی کچھ کام کرنے ہیں
ابھی تو زخم چاہت کےتری خوشبو سےمہکیں گے
ابھی تو یوں بھی ہونا ہے
کہ تیری جھیل سی آنکھوں میں
مجھکو ڈوب جانا ہے
ابھی وقت وداع کےآخری منظر کو
آنکھوں میں بسانا ہے
ابھی تو ہجر کے سمجھوتے طے ہونے ہیں
ہاتھوں میں تمہارا ہاتھ تھامے
ہاں کسی ویراں سڑک پہ
چاندنی راتوں میں کتنی دورجانا ہے
ابھی تو من میں اک احساس جاگےگا
کسی کے پاس آنے کا
کسی کے دور جانے کا
ابھی تو مجھ کو تری گود میں سر رکھ کے رونا ہے
ابھی تو یوں بھی ہونا ہے
ترے دامن پہ گرنےسےذرا پہلے
ترے اشکوں نےتو رخسارکا بوسہ بھی لینا ہے
تمھیں اک آخری خط بھی تو دینا ہے
ابھی تو حسن کو پلکوں کی ڈوری میں پرونا ہے
ابھی تو عشق کے سارے محل نیلام کرنے ہیں
ابھی رک جاؤ
نہ جاؤ،
ابھی کچھ کام کرنے ہیں

Rate it:
Views: 688
12 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL