اجنبی شہر میں دیوار کھڑی کرتے ہو
Poet: Haji Abul Barkat,poet By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachiمیں نے دریا کو بھی کوزہ میں چھپا رکھا ہے
ہر غم ۔دہر کو سینے سے لگا رکھا ہے
جس کو گل پاش نگاہوں کا امیں کہتے ہو
اس نے ہر ہاتھ میں اک سنگ اٹھا رکھا ہے
تم ستاروں کی ہی چالوں میں ہو الجھے الجھے
ہم نے گر دوں کو بھی ہمسایہ بنا رکھا ہے
روشنی شمس و قمر کی عنایت خاص نہیں
اک دیا ہر بُن مونے جلا رکھا ہے
آتش شوق میں جل جاتے ہیں دل والے
حسن بے پروا نے دیوانہ بنا رکھا ہے
تم تو کہتے ہو کہ حالات بدل جائیں گے
ہم نے خوابوں پہ بھی تکیہ ہی لگا رکھا ہے
تم مری آبلہ پائی سے حراساں کیوں ہو
میں نے ہر زخم میں منزل کا پتہ رکھا ہے
جن کی خوشبو سے بھرا رہتا تھا گلشن میرا
ان کی یادوں کو بھی اس دل سے لگا رکھا ہے
اک ذرا غور سے دیکھو سبھی اپنے ہوں گے
جن کو ظلمات کی موجوں نے جدا رکھا ہے
اجنبی شہر میں برکات دیوار کھڑی کر تے ہو
تم نے اپنوں کو بھی اغیار بنا رکھا ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






