احتساب کا یہ دن ہاتھ سے جاتا رہا
Poet: purki By: m.hassan, karachiموجودہ سیاسی مافیا اگر چلتا رہا
تو یہ ملک اندھیروں میں کھو جائے گا
عوام ماضی کی طرح اگر یونہی سوتا رہا
تو کرپٹ لوگ اس ملک کو کھا جائے گا
عدلیہ اور فوج یونہی گھورتا رہا
تو یہ ملک کربلا بن جائے گا
مجرموں کو یونہی بخشتا رہا
تو کرمنلز ملک پر چھا جائے گا
مہنگائی کا طوفان یونہی بڑھتا رہا
تو غریب کا جینا محال ہوجائے گا
حکمرانوں کی بے حسی اگر یونہی رہا
تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا
آبادی کا جِن یونہی بے قابو رہا
تو آدمی آدمی کوکھا جائے گا
پُرانےٹھگوں کو یونہی ووٹ دیتا رہا
تو یہ ملک کو بیچ کر کھا جائے گا
قرضہ خوروں اورلُٹیروں کو ڈھیل ملتا رہا
تو ملک کا ہر ادارہ بینکرپٹ ہو جائے گا
مورثی سیاست کواگر فروغ ملتا رہا
تو یہ ملک بہت جلد فنا ہو جائے گا
حکمراں غیروں کے اشاروں پہ ناچتا رہا
تو بے گناہ لوگ یونہی مرتا رہے گا
جب تلک اسلامی سزاؤں سے مُنہ موڑتا رہا
ملک میں امن و امان ایک خواب بن جائے گا
جمہوریت کے نام پر یونہی بےوقوف بناتا رہا
تو اس ملک میں خونی انقلاب آجائے گا
اپنے اپنوں کو یونہی نوازتا رہا
تو بہت جلد بر بریت کا نظام آجائے گا
ہر ادارے میں نالائقوں کو ٹھونستا رہا
تو ادارہ کا جلد بیڑہ غرق ہو جائے گا
بغیر سوچے سمجھے لیڈر چُنتا رہا
تو پاکستان مسائلستان بن جائے گا
عدل و انصاف کو یوں دفن کرتا رہا
تو دنیا سے جلد تُو فنا ہوجائے گا
اتّحاد، اخوّت اور محبّت سے مُنہ موڑتا رہا
تو اللہ اور رسول تم سے خفا ہو جائے گا
یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا
تو اللہ کا عزاب آجائے گا
احتساب کا یہ دن ہاتھ سے جاتا رہا
تو عمر بھر تُو بہت پچھتائے گا
خوب سوچ سمجھ اپنا لیڈر چُنو ١١ مئی کو
ورنہ یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






