احمد فراز کی زمین میں

Poet: By: Naveed Siddiqui, Lodhran

وہ مجھ سے ہو خفا دیکھا نہ جائے
یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے

مرا ایمان ہے سچائیوں پر
روا کو ناروا دیکھا نہ جائے

جدا ہونا بہت آسان ہوگا
اگر عہدِ وفا دیکھا نہ جائے

محبت کو جواں رکھنا ہے تو پھر
عمل اچھا برا دیکھا نہ جائے

لہو سے تر ہے میری پاک دھرتی
ستم کا باب وا دیکھا نہ جائے

کوئی رستا کوئی رہبرعطا ہو
بھٹکتا قافلہ دیکھا نہ جائے

تری یادوں نے پاگل کر دیا ہے
تجھے کچھ دن بھُلا دیکھا نہ جائے؟

ہمارے سامنے منزل کھڑی ہے
مگر جب راستا دیکھا نہ جائے

بہت سے لوگ ہیں دنیا میں لیکن
کوئی ہو آپ سا ،دیکھا نہ جائے

Rate it:
Views: 800
29 Aug, 2011
More Political Poetry