ارادے نیک ہوں دنیا میں پھر کیا ہو نہیں سکتا
Poet: Shams Bhopali By: Shams Bhopali, Bhopalارادے نیک ہوں دنیا میں پھر کیا ہو نہیں سکتا
وگرنہ سایہ تک تیرا بھی تیرا ہو نہیں سکتا
وہ اک دشتِ بیاباں اس میں ڈیرا ہو نہیں سکتا
محبت ہو نہ جس دل میں، بسیرا ہو نہیں سکتا
ترا سب کچھ سلامت ہے، اور اس نے کچھ نہیں لوٹا
جو کچھ خط لے کے بھاگا ہے، لٹیرا ہو نہیں سکتا
میرا معیار کچھ ہٹ کے ہے، اوروں سا نہیں، سن لو
جسے میں چاہوں، کوئی ایرا غیرا ہو نہیں سکتا
ابھی ظلمت کے سائے ہیں مگر لے کام ہمت سے
کبھی یہ سوچنا بھی مت، سویرا ہو نہیں سکتا
تیری بند آنکھوں کا ہے دوش، قسمت کو برا مت کہہ
تو جب تک خود نہیں چاہے، اندھیرا ہو نہیں سکتا
یہ تیرے دل کی دنیا ہے، جہاں میری حکومت ہے
بنا میری اجازت کوئی تیرا ہو نہیں سکتا
نہیں مانگو اگر دل سے، تو کچھ ہوگا نہیں حاصل
میں تیرا ہو نہیں سکتا، تو میرا ہو نہیں سکتا
پرندے بے زباں، بے عقل، ان کو کون سمجھائے
کہ جن شاخوں پہ جھولے ہوں، بسیرا ہو نہیں سکتا
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






