اس بے وفا سے کہنا۔۔۔۔۔۔آزاد نظم
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillاے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
تم نے چومے ہیں وہ بے تاب قدم
والہانہ جو میری سمت کھنچے آتے تھے
ساتھ ساتھ انکے ہواؤں کا رقص چلتا تھا
قافلے رنگ کے خوشبو کے چلے آتے تھے
اے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
تم نے چومے ہیں وہ بے تاب قدم
آج اٹھتے ہیں جو اک اور نئی منزل کو
اے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
میرے رقیب سے کہنا جا کر
آج جو آنکھیں تیری دید کو ترستی ہیں
کل کسی اور کے خوبوں میں کھوئی رہتی تھیں
آج جو زلف اسکے شانوں پر بکھرتی ہے
کل کسی اور کو مسحور کئے رکھتی تھی
آج کھلتے ہیں تیرے واسطے جو پھول سے لب
کل کسی اور کی آہٹ سے مہک اٹھتے تھے
اے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
یہ ساری داستان آج اس سے کہہ دینا
ہاں ذرا ٹھہرو
کچھ باتیں ان کہی رہنے دینا
میری طرح سے اسکا دل نہ کہیں پھٹ جائے
بلکہ کچھ بھی نہ کہنا
بس میرے پتھر کے صنم سے کہنا
جیسا پہلے کر چکے ہو
ابکے ویسا نہ کرنا
بس یہ کہہ کے لوٹ آنا
اور میرے گلے لگ کے رو لینا
اے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






