اس بے وفا سے کہنا۔۔۔۔۔۔آزاد نظم
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillاے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
تم نے چومے ہیں وہ بے تاب قدم
والہانہ جو میری سمت کھنچے آتے تھے
ساتھ ساتھ انکے ہواؤں کا رقص چلتا تھا
قافلے رنگ کے خوشبو کے چلے آتے تھے
اے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
تم نے چومے ہیں وہ بے تاب قدم
آج اٹھتے ہیں جو اک اور نئی منزل کو
اے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
میرے رقیب سے کہنا جا کر
آج جو آنکھیں تیری دید کو ترستی ہیں
کل کسی اور کے خوبوں میں کھوئی رہتی تھیں
آج جو زلف اسکے شانوں پر بکھرتی ہے
کل کسی اور کو مسحور کئے رکھتی تھی
آج کھلتے ہیں تیرے واسطے جو پھول سے لب
کل کسی اور کی آہٹ سے مہک اٹھتے تھے
اے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
یہ ساری داستان آج اس سے کہہ دینا
ہاں ذرا ٹھہرو
کچھ باتیں ان کہی رہنے دینا
میری طرح سے اسکا دل نہ کہیں پھٹ جائے
بلکہ کچھ بھی نہ کہنا
بس میرے پتھر کے صنم سے کہنا
جیسا پہلے کر چکے ہو
ابکے ویسا نہ کرنا
بس یہ کہہ کے لوٹ آنا
اور میرے گلے لگ کے رو لینا
اے حسیں چاند کی ساحر کرنوں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






