اس شجر کا کبھی سایہ نہ ثمر دیکھا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadاس شجر کا کبھی سایہ نہ ثمر دیکھا ہے
عشقِ بے مہرکی نذرسب کر دیکھا ہے
آگ کا دریا ہےکہیں کانٹوں بھری راہیں
ہررستہ ہی الفت کا پُر خارو خطر دیکھاہے
خزاں چھین لیتی ہے جیسے گلستاں کے رنگ
ہنستے ہوئے چہروں کو یوں چشمِ تر دیکھا ہے
کسی اور ٹھکانے پر اب دل ہی نہیں لگتا ہے
گستاخ نگاہوں نے جب سے تیرا در دیکھا ہے
زمانے بھر سے الجھتا رہا ہوں میں تن تنہا
ہرشخص کے ہاتھوں میں پتھر دیکھا ہے
تیری موجوں کے طلاطم سے اب ڈرنہیں لگتا
اے سمندر میں نے تیرا ہر بھنور دیکھا ہے
تیرے غم نے میرے فن کو جِلا بخشی ہے
میں نے جاگتی آنکھوں خود کو سُخن ور دیکھا ہے
گر ہو سکے تو میرا تماشہ ء قہر بھی دیکھو
اے ستم گر تونے میرا صبر دیکھا ہے
وصال ِ یار کی نہ اک لمحہ کبھی نوبت آئی
زندگی میں کچھ دیکھا ہےتو ہجر دیکھا ہے
عشق نے یہ معجزہ بھی دکھایا ہے رضا
نگاہ ِ یارمیں عقیدت کو منور دیکھا ہے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






