اس نکمے پہ کبھی بوجھ نہ ڈالا جائے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستان

 اس نکمے پہ کبھی بوجھ نہ ڈالا جائے
جو نہ سمجھے، اسے کیوں کام سمجھایا جائے

بات کرتا ہے تو لگتا ہے بہت دانا ہے
کام پڑ جائے تو ہر فرض بھلایا جائے

وقت پر آ کے جو اک بار نبھا لے وعدہ
پھر اسی شخص پہ دنیا کو لٹایا جائے

اس کی عادت ہے فقط باتوں میں بہہ جانا
ایسے لوگوں سے نہ رستہ ہی بنایا جائے

ہم نے سمجھا تھا ذرا ساتھ نبھائے گا مگر
آدھے رستے سے ہی کیوں بوجھ اٹھایا جائے

گفتگو یہ ہے کہ کردار سے پہچان ہو
وشمہ کو نہ غزل میں بھی ستایا جائے

Rate it:
Views: 1
07 Feb, 2026
More Life Poetry