اسے اجازت ہے جی بھر کے الجھاۓ مجھے!!!

Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستان

اسے اجازت ہے جی بھر کے الجھاۓ مجھے
شرط یہ ہے کہ پھر وہی سلجھاۓ مجھے

جھیل سی آنکھوں میں ڈوب جانے دے کبھی وہ
ادھورے لفظوں کے معنی بھی سمجھاۓ مجھے

ہم کہ زمانے کے اصولوں سے سدا کے باغی
اہل دل کے دساتیر کوئی پڑھاۓ مجھے

مان لے میری یا پھر منوا لے اپنی
شہنشاہوں کی طرح مقابل میں گراۓ مجھے

اب کون محبت میں بادۓ صباء ڈھونڈے
طوفان ء باد و باراں ہر سو ہیں ستاۓ مجھے

جانتا ہو گر وہ میرے جزبوں کی حقیقت
لازم ہے کہ فقط پھر نبھاۓ مجھے

وہ ملے مجھ سے میرے عکس کی صورت
سنے میری اور اپنی سناۓ مجھے

گزر نہ جائیں جاں سے ہی کہیں ہم
شوق میں اتنا بھی نہ آزماۓ مجھے

حرف ء دعا کی طرح میرے لب پہ ٹھہرنے والا
اپنے دست ء دعا میں بھی کبھی ٹھہراۓ مجھے

محبت گر تجارت ہے تو کرے سودا گری بھی
میری وفاؤں کے بھی ذرا دام بتاۓ مجھے

ہمیں منظور ہے عنبر ترک ء تعلق بھی
جینا اپنے بنا مگر سکھاۓ مجھے

Rate it:
Views: 1090
03 Aug, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL