الوداع

Poet: Haider By: Haider, sydney

ہم سمجھ گئے ساری
تمہاری ان کہی باتیں
کہ ہمارا ساتھ تھوڑا ہے
تمہین نئی دنیا بسانی ہے
ہمیں بھی لوٹ جانا ہے
مگر جاناں
اب ہمارے رابطے سارے
کچھ اور سے ہوں گے
یھ سارے حسین منظر
اب
استعارے درد کے ہوں گے
جب
سرد ہوا تم کو
چھو کے جائے گی
تو یہ بتائے گی
کہ کوئی ہے
جو درد سہتا ہے
آسماں پے چمکتے ہوئے تارے
تمہیں یہ بتائیں گئے
کہ ہم آنسو بہاتے ہو
تیرے آنگن پے
اک برستا ہوا بادل
یہ کہنے آئے گا
ہمارا ضبظ ٹوٹا ہے
بہاریں صدا لگائیں گی
عشق کے داغ تازہ ہیں
کبھی آسماں پے
اک قوس کی مانند
سب رنگ جمع ہو کے
تمہیں یہ بتائیں گے
کہ چند نئی کوشیاں
ہماری راہ میں آئی ہیں
اور جب یہ دھنک مرنے لگے
تو سمجھ جانا
کہ تم بن اب ہر خوشی
اب عارضی سی ہے

Rate it:
Views: 2356
16 Mar, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL