انا کے ہاتھوں مجبور تھا
Poet: fauzia By: fauzia, rahim yar khanانا کے ہاتھوں مجبور تھا بہت کھل کہ رویا نہ ہوگا
تنہائی کا درد اسپہ منکشف نہ تھا رات بھر سویا نہ ہوگا
میرے آنچل سے ڈھانپ دیا تھا اسکے چہرے کو
ایسا شریر جھونکا اس بام پہ پھر آیا ہوگا
میری چوڑیوں کی کھنک سے بن جاتی تھی شہنائی سی رات
خاموش رتجگوں میں کیسے دل بہلاتا ہوگا
جدا کرکے خود سے لوٹتے وقت اک نظر مڑ کر مجھے دیکھا تو ہوگا
کیوں صفائی کاحق نہیں دیا اسے خود پہ چلایا ہوگا
ناٹ لگاتے ہوئے نکٹائی کو میرا لمس محسوس کرتا تو ہوگا
دیکھ کر تروتازہ سرخ گلاب میرے جوڑےکا حسن یادآیا تو ہوگا
یوں تو تنہائی کے زخم سے گھائل ہے دل میرا مرہم اس نے بھی لگایا نہ ہوگا
بھول کر گاڑی کی چابی اپنی ہی جیب میں جانے کہاں کہاں سر کھپایا ہوگا
دھندلا نہ جاے عکس ماضی کی گرد سے میری تصویر عروسی کو چوماتو ہوگا
بچھڑکر کس حال میں ہو گی اس خیال سے دل گھبرایا ہوگا
کیسے ممکن ہو کہ لوٹ آئے وہ انگنت ترکیبوں سے لجھاہوگا
مجھ سے بچھڑنے کی کتنی جلدی تھیاسے لمحں کی طوالت نے سمجھایا ہوگا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






