انسان
Poet: شمامہ حق By: شمامہ حق, Karorpakkaحضرت انسان
الله کی بہترین مخلوقات میں سے ایک
جسے مہارت حاصل ہے
اپنے ہی جیسے انسان کے بارے میں
مفروضے قائم کرنے میں
یہ جانے بغیر کہ وہ
کتنی سمتوں کا سفر کر چکا ہے
کیسے وقت کی دقت کو کاٹ چکا ہے
اور
کتنے طوفان اس پرسکون ساحل کے پیچھے چھپے ہیں
ایک جذباتی سہارا
جو بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے
اس کی کمی کن مصیبتوں کو دعوت دے سکتی ہے
نہیں جانتا کوئی
صرف ایک ہاتھ
درد کی دلدل سے نکالنے کو کافی ہوتا ہے
مگر انسان نے اپنے ہاتھوں کو
محدود کر دیا ہے
فقط سکرینوں تک
برقی رو کے ذریعے بھیجا گیا پیغام
زیادہ وقعت رکھتا ہے
بنسبت اس کے
جو دل کے تاروں سے بھیجا گیا ہو
وقت سے برکت اٹھائی جا چکی ہے
اور دلوں سے سکون
اندازے لگانے میں ماہر لوگ
حقیقت کو پرکھنے کی ہمت نہیں رکھتے
جو نظر میں آیا وہی ذہن میں بٹھا لیا
مگر تم نے کبھی غور کیا ہو تو
آئینے میں عکس ہمیشہ الٹا دکھائی دیتا ہے
آنکھیں روح کی کھڑکیاں ہیں
اور دل کا بھید عیاں کرنے پر مامور ہیں
لیکن
بڑی عزت کے ساتھ
کہ راز صرف اسی پہ کھولا جائے گا جو جاننے کی جستجو کرتا ہو
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






