انکساری کی جسے زیست ادا دیتی ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

انکساری کی جسے زیست ادا دیتی ہے
حیات اسکو بہت دل سے دعا دیتی ہے

تمہیں سوچنے بیٹھوں تو سوچتی جاؤں
تمہاری سوچ راتیں جلدی بتا دیتی ہے

تیرے چہرے پہ پڑی درد کی مہین لہر
در و دیوار میرے دل کے ہلا دیتی ہے

دین و دنیا کی نعمتیں تجھے مطلوب ہیں تو
مانگ رب سے یہ صلاح مجھ کو دعا دیتی ہے

ایک محور پہ مرتکز رہیں میری آنکھیں
ہر شبیہ تیری ہی تصویر دکھا دیتی ہے

میں جس رستے پہ چلوں تیرا آستاں ہی ملے
مجھے ہر راہ تیرے در سے ملا دیتی ہے

کوئی خوشی ملے عظمٰی کہ مجھے غم ہی ملے
ہر ایک شے تیری چوکھٹ پہ جھکا دیتی ہے

Rate it:
Views: 864
23 Feb, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL