انکی جھلک
Poet: UA By: UA, Lahoreپھر وہی پیاس جاگتی ہوئی محسوس ہوئی
پھر وہی دل لگی دل کی لگی محسوس ہوئی
پھر تمہیں یاد کیا دل کی بیقراری نے
پھر نگاہوں کو طلب دید کی محسوس ہوئی
پھر مہکتی ہوئی خوشبو میرے دل میں اتری
پھر نگاہوں کو دمکتی چمک محسوس ہوئی
پھر خیالوں کو سجایا تیرے خیالوں نے
بزم تنہائی میں سر گوشی سی محسوس ہوئی
پھر سجایا تیرے خوابوں نے میری آنکھوں کو
پھر نگاہوں کو نئی روشنی محسوس ہوئی
پھر شب ہجر گزرنے کی گھڑی آ پہنچی
پھر سماعت کو نوید سحر محسوس ہوئی
آج پھر عظمٰی جانے کیوں ہم کو
اپنے اطراف میں انکی جھلک محسوس ہوئی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






