اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
کل شب مر گیا مجھ کوئی
اردوں کا بہت پکاء
لفظوں کا بہت سچا
اک شخص پے اعتبار کرتے کرتے
عزت کے نام پے سولی چڑ گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
اک شخص سجدوں میں جھکا ہوا
دعاوں سے سجا ہوا
ممکن - نا - ممکن کی سوچ سے بھی
بہت آگئے کا یقین رکھتا ہوا
بس اک انکار کی آگ میں جل گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
نیت پے ملنی مراد تھی
جہاں قدم قدم پے بھی خدا کی ذات تھی
پھر بھی دنیا کے طعنوں سے
اندر ہی اندر مر گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
اک آندھری رات میں
آنسووں کی برسات میں
کچھ پوشیدہ یادوں کی یاد میں
قطرہ قطرہ کر کے مٹ گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
توں نے ساتھ چھوڑا تو
اک گلاب سا چہرہ مرجھا گیا
تیرے ٹھکرانے کے بعد ُاس شخص کو
دنیا نے بھی ٹھکرا دیا
موم سا وجود لے کر پتھر بن گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






