اوڑھ کر خاک پہ کُچھ آب و ہوا پھرتا ہوں

Poet: By: AAZAD ALI, HUB CHOWKI

اوڑھ کر خاک پہ کُچھ آب و ہوا پھرتا ہوں
یہ جو مَیں زرد علاقوں میں ہَرا پھرتا ہوں

لوگ سُنتے ہی نہیں ٹالتے رہتے ہیں مُجھے
وُہ نہیں ہوں جو یہاں پر مَیں بَنا پھرتا ہوں

ڈھُونڈتی پھرتی ہے رُخصت کی شبِ تار مُجھے
اور مَیں ہوں کہ چراغوں میں جَلا پِھرتا ہوں

تنگ ہوتے ہیں مری آنکھ میں پھرنے والے
وُہ یہ کہتے ہیں زیادہ مَیں کھُلا پِھرتا ہوں

ایک منظر ہے کہ چِمٹا ہے مری آنکھوں سے
ایک حیرت ہے کہ مَیں جس سے لگا پِھرتا ہوں

ہر جگہ ایک زمیں ایک فلک ایک ہی مَیں
مُجھے لگتا ہے کہ مَیں ایک جگہ پِھرتا ہوں

اور اب ساتھ نہیں دیتے مِرا ، یار مِرے،،،
وُہ یہ کہتے ہیں مَیں پہلے ہی بڑا پِھرتا ہوں

Rate it:
Views: 1030
03 Sep, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL