اُس نے اپنے بکھرے گھر کو، پھر سے سمیٹا، ٹھیک کیا
Poet: By: AAZAD ALI, HUB CHOWKIعاجز تھا، بے عجز نبھائی، رسمِ جُدائی میں نے بھی
اُس نے مُجھ سے ہاتھ چُھڑایا، جان چُھڑائی میں نے بھی
جنگل کے جل جانے کا، افسوس ہے لیکن کیا کرتا
اُس نے میرے پیڑ گرائے، آگ لگائی میں نے بھی
اُس نے اپنے بکھرے گھر کو، پھر سے سمیٹا، ٹھیک کیا
اپنے بام و در پہ بیٹھی، گرد اُڑائی میں نے بھی
نوحہ گرانِ یار میں، یارو! میرا نام بھی لکھ دینا
اُس کے ساتھ بہت دن کی ہے، نغمہ سرائی میں نے بھی
ایک دِیا تو مرقد پر بھی، جلتا ہے عاصم آخر
دُنیا آس پہ قائم تھی، سو آس لگائی میں نے بھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






