جب تیری دھن میں جیا کرتے تھے
Poet: By: AAZAD ALI, HUB CHOWKIجب تیری دھن میں جیا کرتے تھے
ہم بھی چپ چاپ پھرا کرتے تھے
آنکھ میں پیاس ھوا کرتی تھی
دل میں طوفان اٹھا کرتے تھے
لوگ آتے تھے غزل سننے کو
ہم تیری بات کیا کرتے تھے
سچ سمجھتے تھے تیرے وعدوں کو
رات دن گھر میں رہا کرتے تھے
کسی ویرانے میں تجھ سے مل کر
دل میں کیا پھول کھلا کرتے تھے
گھر کی دیوار سجانے کے لیے
ہم تیرا نام لکھا کرتے تھے
وہ بھی دن تھے بھلا کر تجھ کو
ہم تجھے یاد کیا کرتے تھے
جب تیرے درد میں دل دکھتا تھا
ہم تیرے حق میں دعا کرتے تھے
بجھنے لگتا جو چہرہ تیرا
داغ سینے میں جلا کرتے تھے
اپنے جذبوں کی کمندوں سے تجھے
ہم بھی تسخیر کیا کرتے تھے
اپنے آنسو بھی ستاروں کی طرح
تیرے ہونٹوں پہ سجا کرتے تھے
چھیڑتا تھا غم دنیا جب بھی
ہم تیرے غم سے گلہ کرتے تھے
کل تجھے دیکھ کے یاد آیا ھے
ہم سخنور بھی ہوا کرتے تھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






