اُسے کہنا یہ دنیا ہے
Poet: Tayyab Tahir By: Tayyab Tahir, Jhelumاُسے کہنا یہ دنیا ہے!
یہاں ہر موڑ پہ ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں
جو اندر تک اترتے ہیں
ابد تک ساتھ رہنے کی
اکھٹے درد سہنے کی
ہمیشہ بات کرتے ہیں
اُسے کہنا... یہ دنیا ہے!
یہاں ہر شخص مطلب کی
حدو تک ساتھ چلتا ہے
جونہی موسم بدلتا ہے
محبت کے سبھی دعوے
سبھی قسمیں سبھی وعدے
اچانک ٹوٹ جاتے ہیں
اُسے کہنا... یہ دنیا ہے!
یہاں ہر مور پہ اپنی
سدا آنکھیں کھلی رکھنا
کوئی کتنا بھی اچھا ہو
کوئی کتنا بھی سچا ہو
مگر اعتبار مت کرنا
اُسے کہنا... یہ دنیا ہے!
یہاں پہ پیار مت کرنا ...
یہاں پہ پیار مت کرنا ...
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






