وہ دلبر میری جان ہے ایسا بچھڑا کہ پھر ملا نہیں
Poet: Muhammad Tanveer Baig By: Muhammad Tanveer Baig, Islamabadوہ دلبر میری جان ہے ایسا بچھڑا کہ پھر ملا نہیں
دن بدل گئے سالوں میں لگا کچھ بھی تو بدلا نہیں
شام تنہائی ہے اور کچھ دھندلی یادیں ہیں ساتھ
بس یوں ہی دن کٹتے ہیں مجھے کچھ بھی تو بھولا نہیں
جینے کا بھی مزہ تھا جب ہوتا تھا وہ پاس پاس
زندگی کے رنگ بھی بے رنگ ہیں اب کچھ بھی تو رہا نہیں
مزاج ہی کچھ ایسا ہے ک خفا خفا میں رہتا ہوں
ہنسنا تو دور ہے میں کھل کے کبھی رویا نہیں
ایک امید ہے جو جینے کی آس دلا تی ہے تنویر!
ایک بار وہ مجھے مل جائے پھر رب سے کوئی گلہ نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






