اُمیدِ وفا

Poet: A-R Ajiz By: A-R Ajiz, Lahore

وفا کی اُمید پہ چل نکلے تھے ان راہوں پہ
کیا پتہ تھا قسمت میں بے وفائی لکھی ہے

دکھایا تھا دور سے اک دن اُس نے کنارہ
اب یہ کشتی میری بھنور میں پھنسی ہے

کیا مِلا اے ظالم دل میرا توڑ کے
اب یہ زندگی تجھ بن بے نام سی پڑی ہے

کون جانے کس کے دل میں کیا طوفاں پل رہے ہیں
ہر اک کو یہاں بس اپنی اپنی پڑی ہے

وہ بے وفا نکلے گا یہ سوچا نہ تھا
اسی بات سے تو چھُری دل پہ چلی ہے

غمِ بے وفائی میں جان نکل جائے گی اک دن
دلِ پُر درد سے یہ صدا میں سُنی ہے

اُس کی بھول بھلیوں میں دل کھو سا گیا تھا
دیکھو صورت بھی تو اس کی کتنی بھلی ہے

کیا گلہ عاجز جو بے وفائی وہ کر گیا
اپنی قسمت میں ہی لکھی بے وفائی ہے

Rate it:
Views: 639
05 Apr, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL