اپنے افسانے کو کوئی نام تو دے جاتے
Poet: Jamil Hashmi By: Jamil Hashmi, Rawalpindiاپنے افسانے کو کوئی نام تو دے جاتے
جاتے جاتے کوئی پیغام تو دے جاتے
کیسے گزرے گی یہ زندگی تم بن
ہماری زیست کوتھوڑا آرام تو دے جاتے
کس سے کریں گے محبت کی باتیں ہم
ہماری چاہت کو کوئی انعام تو دے جاتے
پوچھتے ہیں لوگ تیرے روٹھنے کا سبب
پیارکی کہانی کو کوئی انجام تو دے جاتے
کتنی آسانی سے تم نے چھوڑ دیا ہمیں
ہماری نادانی کو درد بھرا اختتام تو دے جاتے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






