اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا
میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا
اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا
وہ ایک بہار جو آئی نہیں اس کے لیے سب کچھ ہار دیا
یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری ذات نہیں*مرا حال نہیں
اے کاش کبھی تم جان سکو جو اس سکھ نے آزار دیا
میں کھلی ہوئی اک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ھیں
میں نے کن لوگوں سے نفرت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا
وہ عشق بہت مشکل تھا مگر آسان نہ تھا یوں جینا
اس عشق نے زندہ رھنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا
میں*روتا ھوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ھوں
ان لوگون پر جن لوگوں نے مرے لوگوں کو آزار دیا
وہ یار ھوں یا محبوب مرے یا کبھی کبھی ملنے والے
اک لذت سے کے ملنے میں وہ زخم دیا یا پیار دیا
مرے بچوں کو اللہ رکھے ان تازہ ہوا کے جھونکوں نے
میں*خشک پیڑ خزاں کا تھا مجھے کیسا برگ وبار دیا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






