آج ہم بھی تیرے ملنے کی دعا کر دیکھیں

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

اب تو خواہش ہے کہ یہ زخم بھی کھا کر دیکھیں
لمحہ بھر کو ہی سہی اُس کو بھُلا کر دیکھیں

شہر میں جشنِ شبِ قدر کی ساعتِ آئی
آج ہم بھی تیرے ملنے کی دعا کر دیکھیں

آندھیوں سے جو اُلجھنے کی کسک رکھتے ہیں
اِک دیا تیز ہَوا میں بھی جلا کر دیکھیں

کچھ تو آوارہ ہواؤں کی تھکن ختم کریں
اپنے قدموں کے نشاں آپ مٹا کر دیکھیں

زندگی اب تجھے سوچیں بھی تو دم گُھٹتا ہے
ہم نے چاہا تھا کبھی تجھ سے وفا کر دیکھیں

جن کے ذرّوں میں خزاں ہانپ کے سو جاتی ہے
ایسی قبروں پہ کوئی پھول سجا کر دیکھیں

دیکھنا ہو تو محبت کے عزا داروں کو
ناشناسائی کی دیوار گِرا کر دیکھیں

یوں بھی دنیا ہمیں مقروض کیے رکھتی ہے
دستِ قاتل تیرا احساں بھی اُٹھا کر دیکھیں

رونے والوں کے تو ہمدرد بہت ہیں محسن
ہنستے ہنستے کبھی دنیا کو رُلا کر دیکھیں

Rate it:
Views: 526
23 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL