اک شام کو پیڑ کے سائے تلے
Poet: Bilal Ashraf winni (Amique Zakki) By: Bilal Ashraf Zakki, jauharabadاک شام کو پیڑ کے سائے تلے
میں گم سم گم سم بیٹھا تھا
اور اپنے آپ میں ہنستا تھا
تبھی کندھوں پر اک ہاتھ پڑا
وہ بولے بیٹا کیا بات ہے
کیوں اتنے کھوئے بیٹھے ہو
کیا دل کو لگاۓ بیٹھے ہو؟؟
میں بولا میرے پاس ہے وہ
وہ جس کو ترستی ہے دنیا
محبوب میرا مجھے چاہتا ہے
کیا پیار کا رشتہ ناطہ ہے
وہ بولے بیٹا مت کر یہ
آغازِ محبت اچھا ہے
انجامِ محبت تلخ ہو گا
میں ہنسا بابا پگلا ہے
وہ شام گزرتی گزر گئی
وہ وقت گزرتا گزر گیا
پھر وقت نے پلٹا یوں کھایا
وہ دور کٹا سا رہنے لگا
میرا نام بھی شائد بھول گیا
پھر مدت بعد،، میرا گزر ہوا
اسی پیڑ تلے
اسی سوکھے سوکھے پیڑ تلے
وہاں بیٹھا ایک پریمی تھا
وہ بھی اپنے آپ میں ہنستا تھا
میں دھیرے دھیرے پاس گیا
"شانوں پر رکھ کر ہاتھ کہا"
اے ہمدم میری بات سنو
آغازِمحبت اچھا ہے
انجامِ محبت تلخ ہو گا
بہتر ہے سمجھ لو بات میری
یا حال ذکی جیسا ہو گا
یا حال ذکی جیسا ہو گا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






