اک شعر اس ادا سے تمھیں لکھنا ہوگا
Poet: بلبل سفیر)بختاور شہزادی) By: BAKHTAWAR SHEHZADI, GUJRATچاہی ہیں جدائیاں تو دے دیں گے تمہیں
بھلے ہی تم پہ سبھی وارنا ہوگا
بس اک خواہش ہے اسے وصیت سمجھو
عاجز قلم کو آنسوؤں میں بھگو کے تمھیں
جدائیوں کے صفحات پہ یوں لکھنا ہوگا
تیری چاہت تو ہے لوٹ کے نہ آنا مگر
وہی درد, ہجر کا مجھے بھی سہنا ہوگا
وہ درد جو راتوں کو میں سہا کرتا تھا
بس آشنا فقط اُس درد سے تجھے ہونا ہوگا
آنکھوں میں نمی, ہونٹوں پہ خوشی لے کے
بھری محفل چھوڑ کے تنہائیوں میں جانا ہوگا
کوئی پوچھے تو یہی بات کہنی ہوگی
روسکتی نہیں پر سبھی سہنا ہوگا
جس درد سے دعاؤں میں مانگا کرتے تھے تجھے
اُس درد سے اِسی دعا کو طلب کرنا ہوگا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







