اے کاش دوستی دشمن سے کرلیتے ہم

Poet: بلبل سفیر)بختاور شہزادی) By: BAKHTAWAR SHEHZADI, GUJRAT

کم سے کم بدلنے پہ زارو قطار نہ روتے ہم
تجھے یاد ہے چلو اب کروا دیتے ہیں ہم
کہ دل جب ٹوٹا تھا تو کیسے ٹوٹے تھے ہم
گر یاد ہو تو فقط بھولنے کا تقاضا کیا اس نے
کیسے بھولیں یہ تقاضا اگر بھول گئے ہیں ہم
مت پوچھو سوالوں کی عادت ڈالی کس نے
سولوں کے باوجود جن سے سوال نہ کیا کرتے تھے ہم
آئینے میں دیکھتے تھے کے بکھر گئے ہیں ہم
اتنی شدت سے پکارتے ہیں کے ٹوٹ جائیں ہم
تیری بے وفائی کی سزا کچھ یوں دیں گے ہم
دروازے پہ قفل نہ ہو گا مگر آنے نہ دیں گے ہم
کہا تھا نہ اے کاش وقت تھم جائے
کہ غلطی سنوار لو تم,اور خود کو سنوار لیں ہم

Rate it:
Views: 614
17 Mar, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL