اے کاش دوستی دشمن سے کرلیتے ہم
Poet: بلبل سفیر)بختاور شہزادی) By: BAKHTAWAR SHEHZADI, GUJRATکم سے کم بدلنے پہ زارو قطار نہ روتے ہم
تجھے یاد ہے چلو اب کروا دیتے ہیں ہم
کہ دل جب ٹوٹا تھا تو کیسے ٹوٹے تھے ہم
گر یاد ہو تو فقط بھولنے کا تقاضا کیا اس نے
کیسے بھولیں یہ تقاضا اگر بھول گئے ہیں ہم
مت پوچھو سوالوں کی عادت ڈالی کس نے
سولوں کے باوجود جن سے سوال نہ کیا کرتے تھے ہم
آئینے میں دیکھتے تھے کے بکھر گئے ہیں ہم
اتنی شدت سے پکارتے ہیں کے ٹوٹ جائیں ہم
تیری بے وفائی کی سزا کچھ یوں دیں گے ہم
دروازے پہ قفل نہ ہو گا مگر آنے نہ دیں گے ہم
کہا تھا نہ اے کاش وقت تھم جائے
کہ غلطی سنوار لو تم,اور خود کو سنوار لیں ہم
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







