اک مان ٹوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاک مان ٹوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
رشتوں سے ایمان
چھوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
پھولوں کا گلدان
ٹوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
دعاوں سے اک انسان
روٹھا ہیں بس اور کچھ نہیں
ہاتھوں سے اک ہاتھ
چھوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
فلک کو دیکھ کر اب
کوئی روتا ہیں بس اور کچھ نہیں
آنسو پلکوں تک آتا ہیں اور
کہیں کھوں جاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
کوئی لفظ محبت لکھ لکھ کر
مٹاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
صحرا میں جام پایا اور
منہ تک لا کرکوئی
گراتا ہیں بس اور کچھ نہیں
مٹی سے گھر بنایا تھا کبھی
اور مٹی میں کوئی
ملاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
دل میں جلتے ُامید کے دیے
کوئی بھجاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
موت سے جو ڈرتا تھا کبھی
آج موت کو دیکھ کر کوئی
بانہیں پھلاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






