تیر ی رفاقتوں کے سلسلے بھی کچھ عجیب تھے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaتیر ی رفاقتوں کے سلسلے بھی کچھ عجیب تھے
ہم نہیں لکی ! ہمارے دشمن خوش نصیب تھے
چند ہی ملاقاتوں میں لوٹ لیاگھر میرا
ُاس کے اپنے تھے مگر میرے رقیب تھے
جنگ لڑنے کا عہد تو دونوں سے کیا تھا
بس ُاس نے مان لی ہار - اور مجھ پے چلے سب تیر تھے
میرا ضمیر وفا کر بھی مطمعین نہیں تھا لکی
وہ لوگ بیوفا ہوتے ہوئے بھی امین تھے
ُاس کے ہاتھوں مجھے مل گیا میرے گناہوں کا صلہ شاید
ہمیں دکھ دینے والے بھی خدا کے کتنے قریب تھے
میرے چہرے پے موت کی پرچھائیاں صاف نظر آتی ہیں
مجھے زندہ تسلیم کرنے والے بھی کتنے شریف تھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






