تیر ی رفاقتوں کے سلسلے بھی کچھ عجیب تھے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

تیر ی رفاقتوں کے سلسلے بھی کچھ عجیب تھے
ہم نہیں لکی ! ہمارے دشمن خوش نصیب تھے

چند ہی ملاقاتوں میں لوٹ لیاگھر میرا
ُاس کے اپنے تھے مگر میرے رقیب تھے

جنگ لڑنے کا عہد تو دونوں سے کیا تھا
بس ُاس نے مان لی ہار - اور مجھ پے چلے سب تیر تھے

میرا ضمیر وفا کر بھی مطمعین نہیں تھا لکی
وہ لوگ بیوفا ہوتے ہوئے بھی امین تھے

ُاس کے ہاتھوں مجھے مل گیا میرے گناہوں کا صلہ شاید
ہمیں دکھ دینے والے بھی خدا کے کتنے قریب تھے

میرے چہرے پے موت کی پرچھائیاں صاف نظر آتی ہیں
مجھے زندہ تسلیم کرنے والے بھی کتنے شریف تھے
 

Rate it:
Views: 655
04 Dec, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL