اگر ھو سکے تو لو ٹ آ
Poet: سلیم عشرت ھاشمی By: Saleem Ishrat Hashmi, Karachi ابھی کچھ وقت باقی ہے
اگر ھو سکے تو لوٹ آ
میرے ھم نشین میرے ھم نوا
کچھ وقت ہے جو گیا نہیں
لہو رگو ں میں جما نہیں
سانس ابھی ہے رُکی نہیں
اک آس ہے جو تھمی نہیں
میرا ضبط گرچہ کمال ہے
مگر زند گی کا پتہ نہیں
اگر ھو سکے تو لو ٹ آ
میرے ھم نشین میرے ھم نوا
تیری جُستجو میں جانِ جاں
نہ اپنی جاں سے گزر سکے
سنبھل سکے نہ بکھر سکے
نہ آرزو میں ہی اُجڑ سکے
کاروان یہ حیات کا
ھر حال سو چلتا ر ہا
چراغِ عمر جیسے کوئ
بُجھا نہیں بس جلتا رہا
جو ھم کو تم پر گمان تھا
محبتو ں پر مان تھا
شا ئدا ب و ہ نہ ر ہا
میر ےھم نشین میر ے ھم نوا
اگر ھو سکے تو لوٹ آ
وہ راستے وہ رہگزر
کچھ منزلیں انجان سی
وہ چا ہتوں کا حسیں سفر
اور خوا ہشیں بے نام سی
ڈ ھو نڈتی ہیں ہر ڈگر
اک اک گلی ھر اِک نگر
کہاں رہ گئے کیا کھو گئے
کیوں ھم سے ھوئے ہیں بےخبر
کیا جنوں کی حد سے گزر گئے
یا شکستہ پا ہے ھر اک قدم
کیا برف دِلوں میں اُتر آئ
یا اُمید کی باقی ہے کرن
اس سےپہلےآخری سہا را چھوٹے
جسم کا جاں سے کنا رہ ٹو ٹے
اِک با ر آ کر مل ذ ر ا
میرے ھم نشین میرے ھم نوا
اگر ھو سکے تو لوٹ آ
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







