ایتھے کر نہ ایڈا ترلہ
Poet: صوفی شاعر حضرت غلام حضور شاہ By: maqsood hasni, kasurصفت کراں میں رب سچے دی جو ہے خاص رحمن
اٹھ پچھلی راتیں ملاں دین ازان ۔۔۔۔
کر عبادت رب دی جے ہیں نیک نصیب
عبادت کر گیے رب دی الله دے حبیب
اٹھ سویرے کرماں والی پاوے ددھ مدھانی
ددھ ریڑکے تے مکھن نکلے مکھن نکلے نہ پانی
گزرے زمانے پھر نہ آون لکھ چارہ کوئی لاوے
گئی جوانی تیری بندیا ہن بڑھاپا آوے
پانی گیے دریاواں والے چھڈ وطناں نوں جاون
رات دنے میں کراں ایڈیکاں کدوں سجن گھر آون
۔۔۔۔ جے کوئی امانت رکھے اوہ نہ یارو کھائیے
دنیا دے لاچ وچ پئے کے نہ ایمان گوائیے
گھر چمکے شیشے وانگوں جے کر چنگی ہووے سوانی
سوٹا ماریاں دو نئیں ہوندے جو وگدے نیں پانی
پتلوں کدی نئیں سونا بن دا لکھ چارہ کوئی لاوے
لکھاں مناں دے کولے لیاء کے وچ کٹھالی پاوے
سن چوہتر دس جنوری وار جمعرات سداوے
دنیا اتے ایہہ دن بھائی فر کدی نہ آوے
بس کر یار حضور شاہ ایتھے کر نہ ایڈا ترلہ
مر گئیوں تے ملے گا تینوں سارا بھوں نہ ادھ مرلہ
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






