ایک مکالمہ (میں اور میرا محسن)

Poet: Waqas Ashraf By: Waqas Ashraf , Lahore

محسن:
خدارا مان جاؤ وقاص دیار یار چلتے ہیں
طبیب شہر کہتے ہیں بیماری جان لیوا ہے

وقاص:
ارے ٹھرو تو میرے محسن کہاں کی بات کرتے ہو
میں کوچے یا ر سے ہی تو گریبان چاک لایا ہوں

محسن:
ترس کھاؤ اپنے حال پر وقاص۔ مریض عشق ٹھرے ہو
دیدار یار کر لو تم۔ یہی اک نسخہ آخری ہے

وقاص:
دیدار یار کی باتیں نہ چھیڑو ایسے تم محسن۔۔
طبیب وہ اعلئ ٹھرے ہیں۔ کسی سے بھی نہیں ملتے

ایک مکالمہ میرے اور میرے محسن ک درمیان۔ میرا محسن میری حالت دیکھ کر مجھے میرے محبوب کے دیدار کا مشورہ دیتا ہے مگر اسے کیا خبر کہ یار نے ہی یہ حال کیا۔۔۔
 

Rate it:
Views: 603
26 Dec, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL