ایک پگلی سی لڑکی
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaکچھ تو نٹ کا اثر تھا، کئی روز سے
کچھ نشہ بھی ہوا تھا کسی ڈوز سے
اور دولت پدر کی کمائی ہوئی
رشوتوں سے بھگو کے بنائی ہوئی
ہائے کیسی ہوس تھی مٹا لی گئی
ایک پگلی سی لڑکی اُٹھا لی گئی
صبح ٹی وی کے ہاتھوں خبر لگ گئی
بات کوٹھے سے نکلی کئی جگ گئی
ہے سزا غیر انسانی، ووٹنگ ہوئی
پھر شرم سے بھی عاری، رپوٹنگ ہوئی
اور ٹی وی پہ عزت اُچھالی گئی
ایک پگلی سی لڑکی اُٹھا لی گئی
خوب دعوت اُڑی، چائے بسکٹ چلے
غور ہوتا رہا ایک چھت کے تلے
کتنی میٹنگ ہوئی کتنا خرچہ ہوا
دونو ایوانوں میں اُس کا چرچا ہوا
پر غریبوں کی بکواس ٹالی گئی
ایک پگلی سی لڑکی اُٹھا لی گئی
اس برائی پہ چلتے ، بری راہ سے
بچ سکو گے سلگتی ہوئی آہ سے
ایک جنموں جلی ایک مسکین سے
کیا ملا ظالموں ایسی تسکین سے
ماں کی چھاؤں سے باہر نکالی گئی
ایک پگلی سی لڑکی اُٹھا لی گئی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







