ایک پگلی سی لڑکی

Poet: Azharm By: Azharm, Doha

کچھ تو نٹ کا اثر تھا، کئی روز سے
کچھ نشہ بھی ہوا تھا کسی ڈوز سے
اور دولت پدر کی کمائی ہوئی
رشوتوں سے بھگو کے بنائی ہوئی
ہائے کیسی ہوس تھی مٹا لی گئی
ایک پگلی سی لڑکی اُٹھا لی گئی

صبح ٹی وی کے ہاتھوں خبر لگ گئی
بات کوٹھے سے نکلی کئی جگ گئی
ہے سزا غیر انسانی، ووٹنگ ہوئی
پھر شرم سے بھی عاری، رپوٹنگ ہوئی
اور ٹی وی پہ عزت اُچھالی گئی
ایک پگلی سی لڑکی اُٹھا لی گئی

خوب دعوت اُڑی، چائے بسکٹ چلے
غور ہوتا رہا ایک چھت کے تلے
کتنی میٹنگ ہوئی کتنا خرچہ ہوا
دونو ایوانوں میں اُس کا چرچا ہوا
پر غریبوں کی بکواس ٹالی گئی
ایک پگلی سی لڑکی اُٹھا لی گئی

اس برائی پہ چلتے ، بری راہ سے
بچ سکو گے سلگتی ہوئی آہ سے
ایک جنموں جلی ایک مسکین سے
کیا ملا ظالموں ایسی تسکین سے
ماں کی چھاؤں سے باہر نکالی گئی
ایک پگلی سی لڑکی اُٹھا لی گئی

Rate it:
Views: 481
24 Dec, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL