جہانِ سوز کی صدا ہونا اچھا لگا
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadجہانِ سوز کی صدا ہونا اچھا لگا
میرےہونے سے نا ہونا اچھا لگا
لفظ کی صورت تیرے لب سے
میرے نام کا ادا ہونا اچھا لگا
حصولِ وصل کی راحت کے لئے
منزل نہ سہی راستہ ہونا اچھا لگا
زہے نصیب آج بھی میرے لئے
تیرے لب پہ دعا ہونا اچھا لگا
میری زیست کے ہر لمحے کا
تیری ذات پہ فدا ہونا اچھا لگا
اذیتیں اور بھی ہیں، دل میں مگر
بس اک درد تیرا ہونا اچھا لگا
تو نے کہہ جو دیا تھا ہنستے ہوئے
بے وفا ،تو بے وفا ہونا اچھا لگا
مشہور ہے چارہ گری اس کی
یہ سن کربے آسرا ہونا اچھا لگا
تاریک شب کی تنہائی میں
تیری یاد کا سلسلہ ہونا اچھا لگا
روز نیا عزم ، نیاجنونِ عہد ِ وفا
حسبِ معمول نہ نبھا ہونا اچھا لگا
عارضہ ء دل بڑھتا رہا، مگرتیری
الفت سے یابِ شفا ہونا اچھا لگا
کسی سُرمئی شام کی بارش میں
کھڑکی میں کھڑا ہونا اچھا لگا
دوگام چلنا بھی گراں ہوا مجھ پہ
تیری آنکھ میں سجاہونا اچھا لگا
مناتا ہے اِس ادا سے رضا وہ
کہ بات بے بات خفا ہونا اچھا لگا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






