بات زباں سے کیا نکلے

Poet: Wamiq Kakakhel By: Wamiq Kakakhel, Rawalpindi

بات زباں سے کیا نکلے اور چہرے کیا سمجھائیں یارو
کب تک جھوٹ یوں بولتے رہیے آؤ جدا ہو جائیں یارو

دیواروں پہ شیشے سجا کر خود کو ہر سو دیکھنا چاہو
پستی کا احساس ہے یہ بھی کس کس کو سمجھائیں یارو

چادر اوڑھو آگہی کی اور اپنے اندر جھانک کے دیکھو
ہم پاگل ہیں سودائی ہیں تم کو کیا سمجھائیں یارو

کیا کیا ساماں تم نے کئے ہیں کایا کےاس جال میں پھنس کے
دل کے شیشے بھی تو سنبھالو دیکھو ٹوٹ نہ یارو

خود بینی و خود آرائی چاٹ رہی ہے گھن کی مانند
ذات کے خول سے باہر نکلو تم کو لوگ بلائیں یارو

جی چاہے بے حس ہو جائیں آنکھیں اپنی اندھی کرلیں
کب تک سوچیں کب تک بولیں کب تک جان جلائیں یارو

وامق کو تو خون رلادے بے توقیری انساں کی
جیتی جانیں بھوکی ننگی مردے لوگ سجائیں یارو

Rate it:
Views: 445
24 May, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL