باز گشت

Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachi

کیسے دلکش تھے سپنے جو ٹوٹ گئے سارے
حسن کا انجام ہمشہ سے ہی خراب ہوتا ہے

کوئی دُعابھی مقبول نہ تھی تو کہا دل سے
تو نہ غم کر کہ ہمیں حاصل ثواب ہوتا ہے

ڈر لگتا ہے مرنے سے کہ رب کیا کرے گا وہاں
دنیا میں جو ایسا ایسا عذاب ہوتا ہے

نہ ماضی کو کوئی غم ہے نہ یاد ہے باقی
یہاں ہر روز ہی نیا رقم ایک باب ہوتا ہے

کہتا نہیں سنائی دیتی ہے یہی بازگشت
کوئی ہم سا بھی یہاں بے تاب ہوتا ہے

وہ جسے جوتوں میں بیٹھاتی ہے دنیا
ماں کے لیے وہ بیٹا بھی نواب ہوتا ہے

ہماری نظر میں ہیرا تھا نہ مل سکا ہم کو
کانچ کہاں اس قدر کنول نایاب ہوتا ہے

 

Rate it:
Views: 564
20 Jun, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL