بتا نکہت گل بھی ہمیں کبھی یاد کیا کرتے ہیں
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaبتا نکہت گل بھی ہمیں کبھی یاد کیا کرتے ہیں
ہم تو قفس میں رہے کے بھی ان سے ملنے کی دعا کرتے ہیں
اے صبا تیرا بھلا ہو اب کچھ تو بتا دے
کیا وہ بھی میرے انتظار میں رہا بھلا کرتے ہیں
کاش کوئی جا کے انہیں اتنا بتا دے
دن رات ان کے پیار میں ہم کتنا جلا کرتے ہیں
وہ زمانہ اور تھا جو کرتے تھے ہم ہنگامہ برپا
مدتیں ہوئیں ہم اب چب چاپ رہا کرتے ہیں
اس کی ہر بات پر ہے جاں نثار میری
پھول تو پھول ہم تو کانٹوں سے بھی وفا کرتے ہیں
فرصت دن میں تو نہیں پر خواب میں کہاں چھوڑا
ہم تو ہے ہی اسے مگر وہ بھی ملنے کا بہانہ کرتے ہیں
عشق آتش نے کیا ہے یہ اپنا اب حال
رات بھر شمع کی مانند ہم جلا کرتے ہیں
اس جہاں میں کون ہو گا ہم جیسا دوست
ستم سہہ کر بھی اس کا اچھا کہہ کرتے ہیں
جاتے نہیں ہیں ارشد چمن میں کچھ مجبوری ہے اپنی
قسم سے ہر روز انتظار پر صبا کا کیا کرتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






