خطاء کی تو نے کیو بے وفا سے پیار کیا
Poet: Nusrat By: Nusrat Ullah, Gross Gerau Germanyخطاء کی جو بےوفا پہ غضب کا اعتبار کیا
لمحہ لمحہ شب حجر میں اس کا انتظار کیا
پیار چھپنے والی حقیقت نہیں ہے کسی کا
جسے رگ جان سے قریب ہم نے شمار کیا
محفل یار میں جوبولنے کی سقت نہ رکھتا
انجمن اغیار میں اس نے کیسا روپ اختیار کیا
تیرا غصہ تیرے پیار سے زیادہ یاد رہا ہمیں
تیرے سنگ بیتا اک اک پل جب ہم نے شمار کیا
تیری خفگی سے نا حق نالاں نہیں ہیں ہم
غیروں نے بھی جابجا اس کااس کا اظہار کیا
خطاء وار تم ہی ٹہرو گے ہمیشہ
اس سے بڑ کر جو اس کو پیار کیا
طرز زندگی تجھے سیکھنے ہوں گے نصرت
خطاء کی تو نے کیو بے وفا سے پیار کیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






