بحرِ احساس مرے جسم میں بہتا کیوں ہے
Poet: Dr. Masood Mehmood Khan By: Dr. Masood Mehmood Khan, Perth, Australiaبحرِ احساس مرے جسم میں بہتا کیوں ہے
اور تھپیڑوں کو بدن شان سے سہتا کیوں ہے
دل نہیں دیکھتا جو آنکھ دکھاتی ہے اسے
دید کچھ بھی کہے دل اپنی ہی کہتا کیوں ہے
وقت اور سوچ میں اک دوڑ لگی رہتی ہے
دوڑ میں پیچھے صدا وقت ہی رہتا کیوں ہے
جادو اعداد کی موجوں کا یہ ہوتا کیوں ہے
لشکرِ حرص و ہوس ان پہ ہی بہتا کیوں ہے
ملکیت توہے بدن کی نہ بدن تیراہے
کوئی سرگو شیوں میں مجھ سے یہ کہتا کیوں ہے
عمر یہ کس کی تو جس کو جئے جاتا ہے
تیرا افسانہ نہیں ہے تو تو کہتا کیوں ہے
کون الفاظ کو گویا ئ عطا کرتا ہے
میں َ لکھے بھی جو قلم ورق ًَ تو َ کہتا کیوں ہے
تجھ کو تخلیق سے پہلے ہی سنوارا گیا تھا
دردِ تزئین عدم ہی سے تو سہتا کیوں ہے
وجد میں رقص کُناں رہتے ہیں افلاک تو پھر
دیدہ ور گردشِ افلاک ہی کہتا کیوں ہے
ہر دعاپر مری مسعود کوئی جا نے کیوں
مانگئے مانگتے ہی جا ئئے کہتا کیوں ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ







