بریک اپ
Poet: Muzammal Mukhtar Azam By: Muzammal Mukhtar Azam, Lahoreتم سے جو امیدیں تھیں
وہ ساری ٹوٹ گئیں ہیں
جو میرے دل میں ارماں تھے
نہیں ہیں وہ بھی اب باقی
تمہں مجھ سے محبت ہے
تمہں بس مجھ سے چاہہت ہے
یہ سب اب جھوٹ لگتا ہے
کبھی جو آئینے میں مجھ کو
تیرا عکس دکھتا تھا
نہیں ہے وہ بھی اب باقی
نہیں ہوں تم میں “میں“ باقی
مگر اک بات ہے جاناں
مجھے پھر بھی
تم سے محبت ہے
تم سے محبت ہے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






