بَجُز خُدا کے سامنے ، جُھکنا نہیں أتا

Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachi

بَجُز خُدا کے سامنے ، جُھکنا نہیں أتا
ہمیں چشمِ أدمی میں ، جَچنا نہیں أتا

قیمت ہماری بھی لگ سکتی ہے لیکن
بازارِ ضمیر میں ہمیں ، بِکنا نہیں أتا

منصب کے تعقب میں اپنی أبرو ریزی
گِر گِر کر اس طرح سے ، اٹھنا نہیں أتا

راہ میں ہماری بھی راحتیں بچھ سکتی ہیں مگر
ہمیں کسی کی راہ میں ، بِچھنا نہیں أتا

ہر میٹھا بولنے والے کو اپنا سمجھتے ہو
بڑے سادہ ہو لوگوں کو ، پرکھنا نہیں أتا

اخلاق اربابِ اختیار میں تیرا کیونکر مقام ہو
تجھے خلقِ خُدا کی أنکھ میں ، چُبنا نہیں أتا

Rate it:
Views: 845
10 Apr, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL