بُرا تھا یا بھلا جیسا بھی تھا رکھا گیا تھا

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

بُرا تھا یا بھلا جیسا بھی تھا رکھا گیا تھا
تُمہی کہہ دو ہمارا نام کیا رکھا گیا تھا

تُم اپنے آپ میں تھے برہمن، شُودر تھے ہم ہی
جبھی تو بِیچ میں یہ فاصلہ رکھا گیا تھا

ہمیں بچپن میں دوزخ اور جنّت کی خبر تھی
دیانت تھی، کہ دِل میں خوف سا رکھا گیا تھا

نہِیں تھا فیصلہ حق میں ہمارے کوئی بہتر
مگر اک مان تھا ماں باپ کا، رکھا گیا تھا

چُنیں دِل یا انا کے فیصلے کا پاس رکھ لیں
ہمارے سامنے اِک راستہ رکھا گیا تھا

اندھیرا تھا مُقدّر، ہم نے دامن میں سمیٹا
اُجالا آپ کا تھا جا بجا رکھا گیا تھا

بِچھائی چال شاطِر نے، سمجھ آئی نہ حسرت
ہمیں گھر میں ہی بچّوں سے جُدا رکھا گیا تھا

Rate it:
Views: 436
22 Aug, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL